قوموں کی تقدیریں مفکرین اور دانشور ترتیب دیتے ہیں اور وہی ہوتے ہیں جو مستقبل میں جھانکتے ہیں۔ جو اپنی قوم کا راستہ اور اُس کی منزل طے کرتے ہیں۔ جن کے شب و روز غور و فکر میں گزرتے ہیں۔ جن کے افکار و خیالات کی بالیدگی و بلندی عام فہم نہیں ہوتی۔ یہ مفکر عمر بن الخطاب، معاویہ بن ابوسفیان، مجد دِ الفِ ثانی، نپولین ، مسولینی، ہٹلر، چرچل۔ محمد علی جناح، ڈاکٹر محمد اقبال جیسی شخصیات ہوتی ہیں۔ یہ شخصیات چربہ سازی، نقل بازی اور شعبدے بازی سے کوسوں دور ہوتی ہیں اور اِن کی ذات و صفات اقوام کیلئے مشعلِ راہ ہوتی ہیں۔ دانشور اور مفکر اخبار سے زیادہ کتب میں دکھائی دیتے ہیں اور اگر سلسلہ اِس کے برعکس ہو تو یقین مانئے کہ ایسی شخصیت کسی طور بھی دانشور نہیں ہو سکتی۔ آج لاکھوں کتابوں میں محمد علی جناح کا تذکرہ ملتا ہے مگر کسی اخبار میں شائد ہی اُن کا ذکر کیا جاتا ہے ماسوائے کہ کسی خاص دن یا موقع پر خانہ پری کرنا مطلوب ہو۔ 

آج پاکستان میں عطائی کو ڈاکٹر اور صحافی کو دانشور کہا جاتا ہے کسی قوم کی اِس سے زیادہ بد قسمتی نہیں ہو سکتی۔ صحافی جس قدر تجربہ کار ہو گا اُتنا اُس کی صحافیانہ خصوصیات درجۂ اتم کے قریب ہو ں گی اور اُسی قدر دانشوری و فکر سے اُس کا شعور دور ہوتا ہے۔ صحافی دنیا کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ہمیشہ یک رُخی تصویر بناتا ہے۔ اُس کی چشمِ بینا کسی مکمل تصویر کو دیکھنے کی صلاحیت سے عاری ہوتی ہے اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اُس کی بینائی مزید کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ سب سے اہم کہ صحافت پیشہ ہے جس کی مفادات دنیاوی معاملات کے تابع ہیں۔ آئے روز اِس کی مثالیں ٹی وی پر بیٹھے صحافیوں کی زبانوں سے نکلتے الفاظ میں دکھائی دیتی ہیں کہ صحافتی اداروں کے مالکان کی منشاء اور اُن کے جاری کردہ احکامات کے مطابق عوامی رائے عامہ پر اثر انداز ہونا صحافیوں کا منصبِ اعلیٰ بن کر رہی گیا ہے۔ حال ہی میں منظر عام پر آنے والے ایک نئے ٹی وی چینل کا مالک ایف آئی اے کی بد نام ترین سابق افسر کا بیٹا ہے۔ وہ افسر اپنی ملازمت کے دوران بارہا معاشی دہشت گردی کے بڑے بڑے مقدمات اور معاملات میں ملوث رہا تاہم اُس کا کوئی بال بھی بیکا نہ کر سکا۔ اِب اُس کا بیٹا جو کئی جگہوں پر ناکام ہونے کے بعد اپنے جیسوں کے پیسے اور مفادات کی نگہبانی کرنے کو ٹی وی چینل کھول کر بیٹھ گیا ہے اور موٹی تنخواہوں پر صحافیوں کو کیمروں کے سامنے بٹھا کر دن رات اپنے سیاسی و دیگر مقاصد کے حصول کے ساتھ ساتھ کالے دھن کی سفیدی میں مصروفِ کار ہے۔

حکومت اور عوام سمیت زندگی کے ہر شعبے سے منسلک پاکستانی سے میری گذارش ہے کہ عطائی سے تو فردِ واحد کا علاج بھی نہیں کروایا جاتا ہم سب نے تو اپنی مہلک قومی بیماریوں کا علاج بھی ٹی وی اور اخبارات کے ملازموں کے ہاتھوں دے رکھا ہے۔ یہ درباری ملازم عطائی ہیں طبیب نہیں اور اِن سے قوم و ملک کو بچائیں۔ اِن کو دانشور اور مفکر سمجھتے ہوئے قوم کے نجات دہندہ مت بنائیں ورنہ یہ قوم اور یہ ملک کبھی بھی مسائل اور مصائب سے نکل نہیں سکے گی۔  

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s