سکندر حیات و اہلِ خانہ کے ذریعے پوری شام اسلام آباد میں جو سانحہ رچایا گیا اُس حوالے سے ایک پہلو یہ بھی زیرِ غور ہونا چاہیے کہ کہیں یہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے عوامی ہمدردی
اسکندر حیات و اہلِ خانہ کے ذریعے پوری شام اسلام آباد میں جو سانحہ رچایا گیا اُس حوالے سے ایک پہلو یہ بھی زیرِ غور ہونا چاہیے کہ کہیں یہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے عوامی ہمدردی اور مقبولیت حاصل کرنے کی تکنیک تو نہیں تھی؟ بہت سے سوالات میرے ذہن میں کلبلا رہے ہیں۔
۱۔جس ملک میں تھوک کے حساب سے خود کش حملہ آور خریدے جاتے ہیں، جہاں لوگ اپنے جسم و جاں کے رشتے کو بر قرار رکھنے کیلئے اپنی اولاد کو بیچنے اکثر و بیشتر نکل پڑتے ہیں وہاں چند روپوں اور تحفظ کی ضمانت فراہم کرنے پر ایسے اداکار کیوں بہم نہیں پہنچائے جا سکتے؟کئی سال سے بیکار، نشئی آدمی کو ایسے محفوظ اور نمائشی واقعے کیلئے تیار کرنا کون سا مشکل کام ہے؟
۔ جہاں وفاقی حکومت یا دیگر عوامی جماعتوں کے کسی فرد کو نہیں جانے دیا گیا وہاں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے رہنماء کیسے بے ڈھڑک آن پہنچے اور پھر تمام تر حفاظتی حصار اور رکاوٹیں عبور کر کے اسلحہ بردار شخص تک بھی آن پہنچے؟حالانکہ اِس معاملے کی طوالت کی وجہ بھی کسی بھی قسم کے جانی نقصان سے بچنا تھا پھر نبیل گبول اور زمرد خان کی جانیں کیسے خطرے میں ڈال دی گئیں؟
۔ نبیل گبول سمیت کوئی بھی سیاسی فرد اپنے حلقے میں تو حملوں کے خوف سے یا عوام کے ہاتھ لگنے سے لباس گندے ہونے سے بچاؤ کیلئے کبھی عوام میں نہیں نکلے دو خود کار بندوقوں سے مسلح شخص کے سامنے کیسے آ سکتے ہیں۔ اتنی ہمت اپنے علاقے یا حلقے میں تو دکھا نہیں سکے کبھی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ آٹھ بج کر پانچ منٹ پر جب ٹی وی کا پرائم ٹائم چل رہا ہوتا ہے اور ملک کی اکثریت آبادی ٹی وی سے چپکی ہوتی ہے ایسے میں نبیل گبول صاحب کا لائیو ٹی پی آ کر ہمت و بہادر ی کے مظاہرے سے یہ ضرور سمجھ میں آتا ہے کہ سستی شہرت کا اچھا موقع تھا۔
۔ سماجی روابط کے ذرائع پر کئی تصاویر آج پہنچی ہیں جن میں اسکندر حیات صاحب پیپلز پارٹی کے شاہی خاندان کے محافظ کے طور پردکھائے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس شخص پر شاہی خاندان اتنا اعتماد کرتا ہے اُسی کو اِس خاص آپریشن کی ذمہ داری سوپنی جا سکتی ہے جس سے پیپلز پارٹی کی ” بلے بلے” ہو گی۔ حالانکہ اِس قبل پیپلز پارٹی کی پانی سے چلنے والی کار خاصی رسوائی اِس جماعت کیلئے کما چکی ہے۔
۔ کئی سال سے بے روزگار اور نشے کے عادی شخص کے پاس دو خود کار بندوقیں و بڑی مقدار میں گولیاں خریدنے کیلئے رقم کیسے آئی۔ میری معلومات کے مطابق اسکندر نامی شخص کے ہاتھوں میں جو بندوقیں نظر آئیں وہ نئی تھیں اور اُن کی قیمت تین سے پانچ لاکھ روپے کے قریب ہے۔ جبکہ اِس سارے واقعے میں دیگر اخراجات کا تخمینہ بھی کسی طور ایک لاکھ روپے سے کم نہیں ہے۔ دونوں میاں بیوی کے ہاتھوں میں مہنگے موبائل فونز نظر آرہے تھے۔ یہ رقومات کی ادائیگی اُن کے اپنے وسائل سے تو ممکن نہیں ہے۔
۔ آخر میں ذرائع ابلاغ کے کردار پر بات کریں تو ایک جانب بھارت نے پاکستانی سرحد پر حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تو دوسری جانب سیلاب نے تباہ کاریاں مچا رکھی ہیں ایسے میں نجی کاروباری ٹی وی چینل کے تمام تر وسائل کس طرح اِس واقعہ کی طرف مبذول ہو گئی؟پانچ گھنٹے تک براہ راست نشریات کا خرچ کس نے ادا کیا؟ ک تو نہیں تھی؟ بہت سے سوالات میرے ذہن میں کلبلا رہے ہیں۔
۱۔جس ملک میں تھوک کے حساب سے خود کش حملہ آور خریدے جاتے ہیں، جہاں لوگ اپنے جسم و جاں کے رشتے کو بر قرار رکھنے کیلئے اپنی اولاد کو بیچنے اکثر و بیشتر نکل پڑتے ہیں وہاں چند روپوں اور تحفظ کی ضمانت فراہم کرنے پر ایسے اداکار کیوں بہم نہیں پہنچائے جا سکتے؟کئی سال سے بیکار، نشئی آدمی کو ایسے محفوظ اور نمائشی واقعے کیلئے تیار کرنا کون سا مشکل کام ہے؟
۔ جہاں وفاقی حکومت یا دیگر عوامی جماعتوں کے کسی فرد کو نہیں جانے دیا گیا وہاں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے رہنماء کیسے بے ڈھڑک آن پہنچے اور پھر تمام تر حفاظتی حصار اور رکاوٹیں عبور کر کے اسلحہ بردار شخص تک بھی آن پہنچے؟حالانکہ اِس معاملے کی طوالت کی وجہ بھی کسی بھی قسم کے جانی نقصان سے بچنا تھا پھر نبیل گبول اور زمرد خان کی جانیں کیسے خطرے میں ڈال دی گئیں؟
۔ نبیل گبول سمیت کوئی بھی سیاسی فرد اپنے حلقے میں تو حملوں کے خوف سے یا عوام کے ہاتھ لگنے سے لباس گندے ہونے سے بچاؤ کیلئے کبھی عوام میں نہیں نکلے دو خود کار بندوقوں سے مسلح شخص کے سامنے کیسے آ سکتے ہیں۔ اتنی ہمت اپنے علاقے یا حلقے میں تو دکھا نہیں سکے کبھی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ آٹھ بج کر پانچ منٹ پر جب ٹی وی کا پرائم ٹائم چل رہا ہوتا ہے اور ملک کی اکثریت آبادی ٹی وی سے چپکی ہوتی ہے ایسے میں نبیل گبول صاحب کا لائیو ٹی پی آ کر ہمت و بہادر ی کے مظاہرے سے یہ ضرور سمجھ میں آتا ہے کہ سستی شہرت کا اچھا موقع تھا۔
۔ سماجی روابط کے ذرائع پر کئی تصاویر آج پہنچی ہیں جن میں اسکندر حیات صاحب پیپلز پارٹی کے شاہی خاندان کے محافظ کے طور پردکھائے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس شخص پر شاہی خاندان اتنا اعتماد کرتا ہے اُسی کو اِس خاص آپریشن کی ذمہ داری سوپنی جا سکتی ہے جس سے پیپلز پارٹی کی ” بلے بلے” ہو گی۔ حالانکہ اِس قبل پیپلز پارٹی کی پانی سے چلنے والی کار خاصی رسوائی اِس جماعت کیلئے کما چکی ہے۔
1185425_155988461264494_1940045084_n
۔ کئی سال سے بے روزگار اور نشے کے عادی شخص کے پاس دو خود کار بندوقیں و بڑی مقدار میں گولیاں خریدنے کیلئے رقم کیسے آئی۔ میری معلومات کے مطابق اسکندر نامی شخص کے
ہاتھوں میں جو بندوقیں نظر آئیں وہ نئی تھیں اور اُن کی قیمت تین سے پانچ لاکھ روپے کے قریب ہے۔ جبکہ اِس سارے واقعے میں دیگر اخراجات کا تخمینہ بھی کسی طور ایک لاکھ روپے سے کم نہیں ہے۔ دونوں میاں بیوی کے ہاتھوں میں مہنگے موبائل فونز نظر آرہے تھے۔ یہ رقومات کی ادائیگی اُن کے اپنے وسائل سے تو ممکن نہیں ہے۔

۔ اِس سارے ڈرامے کے دوران اسکندر اکثر و بیشتر فون پر متواتر بات کرتا دکھائی دیتا رہا، وہ کس سے ہدایات لے رہا تھا؟
۔ اگر یہ کہا جائے کہ اُس کے ساتھ موجود خاتون اور بچوں کی زندگی کی جان کی حفاظت کیلئے اُس کے خلاف کسی ایکشن سے گریز کیا گیا تو آخری لمحات میں جب میاں بیوی دونوں فون پر بات کرتے ہوئے گاڑی کے اردگرد گھوم رہے تھے یا پھر جب اسکندر حوائجِ ضروریہ کیلئے درخت کی اوٹ میں غیر مسلح و تنہا تھا تب بھی اُسے نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔ صرف یہ ہوتا کہ زمرد خانی ایکشن کا موقع نہیں ملتا۔ یعنی اگر قصہ گولیاں برسا کر ہی تمام کرنا تھا تو اِس سارے عرصے میں بے شمار لمحات ایسے تھے جب اُسے نشانہ بنایا جا سکتا اور ب�آسانی بنایا جا سکتا تھا۔
۔ آخر میں ذرائع ابلاغ کے کردار پر بات کریں تو ایک جانب بھارت نے پاکستانی سرحد پر حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تو دوسری جانب سیلاب نے تباہ کاریاں مچا رکھی ہیں ایسے میں نجی کاروباری ٹی وی چینل کے تمام تر وسائل کس طرح اِس واقعہ کی طرف مبذول ہو گئی؟پانچ گھنٹے تک براہ راست نشریات کا خرچ کس نے ادا کیا؟
۔ پیپلز پارٹی کے رہنماء اگر اِس قدر امن پسند اور دہشت گردوں کے خلاف اپنی جانیں قربان کرنے پر ہر دم تیار ہیں تو گزشتہ دورِ حکومت میں ستر ہزار اسلحہ لائنس وفاق سے اور پانچ لاکھ سندھ کی صوبائی حکومت نے کیوں جاری کئے؟ اسلحہ کے اِس پھیلاؤ نے کراچی اور سندھ میں جو دہشت گردی پھیلا رکھی ہے اُس کو کس کھاتے میں ڈالیں؟
۔ یہ عزیر بلوچ ، بابا لاڈلا، جھینگو بلوچ، سہیل ڈاڈا، علی احمد مگسی اور اِس جیسے دیگر دہشت گرد کس کے ” بچے” ہیں اگر پیپلز پارٹی اتنی ہی امن پسند اور دہشت گرد مخالف ہے؟
تمام سیاسی ، سماجی و مذہبی حلقوں کو یہ تبدیلی سمجھنی ہو گی کہ اِس ملک کی عوام اچانک ایک دہائی میں صدیوں کی ظلمت و گمراہی سے نکل پر عقل و شعود کی راہ پر چل نکلی ہے۔ اب اِن کو ڈراموں اور پراپیگنڈہ کے اُن ہتھکنڈوں سے اُس طرح اپنا غلام نہیں بنایا جا سکتا جس طرح صدیوں سے امراء اِن کو بناتے چلے آئے ہیں۔ اب لیڈر وہی ہو گا جو کہ ہر معاملے میں عوام کے ساتھ کھڑا ہو کر اُن کی قیادت کر رہا ہوگا، اسکائپ یا ٹیلی فون سے خطابات کر کے عوام کو اُلو بنانا اور اپنا اُلو سیدھا کرنا اب زیادہ عرصہ نہیں چل سکے گا۔ سیاست کا مقصد حکومت نہیں خدمت ہو گا ورنہ دال گلے گی نہیں۔ جو سیاست دان اِس تبدیلی کو محسوس کرکے سیاست کریں گے اُن کا مستقبل روشن ہے جو خود پرانی ڈگر پر چلیں گے تو مستقبل شائد اُن کیلئے تاریکی و رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہو۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s