یہ مضمون ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

پاکستان کی اکثریت سطحِ غربت سے نیچے زندگی گذارتی ہے جن کی زندگی کا بیشتر وقت کھانے اور کمانے کے جھمیلوں میں بسر ہوتا ہے۔ وہ غلام پیدا ہوتے ہیں اور مزید کئی غلاموں کو جنم دیکر ختم ہو جاتے ہیں ۔ مجھ جیسے اِن کیڑے مکوڑوں کیلئے نہ کوئی
حزبِ مخالف ہوتی ہے اور نہ ہی حزبِ اقتدار۔ اِن کیلئے تو پارلیمان کر ہر رُکن حکمران ہے اور بالکل صحیح ہے۔ پاکستان کی اسمبلیوں میں براجمان کل کی حزبِ مخالف آج کی حزبِ اقتدار ہے اور کل کی حزبِ اقتدار آج کی حزبِ مخالف ہے۔ صدیوں سے یہی چہرے اور شخصیتیں لوگوں کو نچوڑتی چلی آرہی ہیں اور رہیں گی اگر عوام نے ہوش کے ناخن نہ لئے۔

آج کی شاہ سرخیوں میں آئی ایم ایف سے قرضے کی منظوری کو اہم ترین حیثیت حاصل ہو گی۔ پاکستان کی اکثریت اِس جیسے کسی ادارے کے نام کے علاوہ کچھ بھی نہیں جانتی۔ پہلی عالمگیر جنگ سے قبل مغربی اجارہ داری کے اقوامِ عالم پر قیام کی سربراہی برطانیہ کے سر تھی تاہم دوسری عالمگیر جنگ کے اختتام پر یہ قیادت ریاستہائے متحدہ امریکہ نے سنبھال لی۔ اِس اجارہ داری کے اہم ترین مقاصد تجارتی و معاشی اجارہ داری ہیں۔ جہاں مغرب کی اِس اجارہ داری کو خطرات لاحق ہوتے ہیں وہاں مغرب بے دریغ فوج کشی کر کے اپنے عالمی قبضے کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم اِس عالمی اجارہ داری کی ترویج و ترقی کی ذمہ داری عہدِ حاضر میں دو بنیادی اداروں کے ہاتھ ہے، ایک عالمی بنک اور دوسرا عالمی مالیاتی ادارہ جسے عرفِ عام میں آئی ایم ایف کہا جاتا ہے۔
عمومی تاثر کے برخلاف آئی ایم ایف کبھی بھی فلاحی ادارہ تھا ،  نہ ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ اِس کا بنیادی مقصد تیسری دنیا (جسے عرب عالمِ الفقر کہتے ہیں)کو مغربی نظامِ اقتصاد کا غلام رکھنا ہے۔ یہ ادارہ تیسری دنیا کے ممالک کو امریکی (اور کبھی دیگر مغربی) نقدی کی صورت میں قرضے فراہم کرتا ہے جو تیسری دنیا کو پابند کر دیتے ہیں کہ وہ اپنی پیداوار اقوامِ مغرب کو اُن کی شرائط پر فراہم کر کے مغربی نقدی کمائیں اور اِ ن بھاری بھر کم قرضوں کی ادائیگی کریں۔ یہی وجہ ہے کہ تیسری دنیا کے تمام ممالک کا اہم ترین تجارتی شراکت دار امریکہ ہوتا ہے کیونکہ اِن ممالک کو اپنی پیداوار امریکہ کو منت سماجت کر کے فراہم کرنی ہوتی ہے اور اُس کے بدلے امریکی ڈالر حاصل کرنے ہوتے ہیں جو کہ اِن ممالک نے آئی ایم ایف کے قرضے چکانے میں صرف کرنے ہیں۔ تیسری دنیا پر مغربی استعمار کے استحکام کیلئے چند اقدامات ایسے ہیں کہ غریب ممالک کے عوام کئی دہائیوں سے اُن کا شکار بنتے چلے آرہے ہیں اور بنتے رہے گے۔

اِس میں اہم ترین امر تیل کی عالمی تجارت میں ذریعۂ لین دین صرف امریکی ڈالر کی پابندی ہے۔ پاکستان کو اگر سعودی عرب سے تیل خریدنا ہے تو پاکستان اپنے زائد الضرورت خوراک یا دیگر مصنوعات سعودی عرب کو فراہم کر کے بدلے میں سعودی نقدی یا تیل حاصل کر سکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ سعودی عرب اور تیل برآمد کرنے والے دیگر ممالک کو اِس بات کی پابندی کرنی ہوتی ہے کہ وہ تیل صرف امریکی ڈالر کے عوض فراہم کریں گے۔ لہذا پاکستان پہلے امریکہ کی منت سماجت کر کے اپنی پیداوار یا مصنوعات امریکی شرائط پر اُسے فراہم کرتا ہے اور بدلے میں کاغذ کے ٹکڑے جنھیں امریکی ڈالر کہا جاتا ہے، حاصل کرتا ہے۔ پھر یہ امریکی ڈالر سعودی عرب کو دے کر اپنی ضروریات کا تیل حاصل کرتا ہے۔ چونکہ توانائی پاکستان کی معیشت میں اہم ترین حیثیت کی حامل ہے لہذاپاکستان اور اِس جیسے دیگر ممالک مجبور ہیں کہ وہ امریکی غلامی میں جکڑے رہیں۔ اِس سے نکلنے کا حل یہی ہے کہ اس قدر قومی پیداوار ہو کہ وہ تیل و دیگر درآمدات کی ضرورت کیلئے درکار امریکی ڈالر وں کو بآسانی کما سکیں۔ تیسری دنیا کو یہ مقام حاصل کرنے میں ناکام رکھنے کیلئے اہلِ مغرب مزید ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔

تیسری دنیا غربت و غلامی میں جکڑی رہے اِس کو ممکن بنانے کیلئے اہلِ مغرب کا دوسرا اہم ترین حربہ دہشت گرد افراد کا ایسے ممالک کی حکومت پر قابض رہنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی حکومت پر قابض افراد ہمیشہ معاشی، سیاسی، سماجی اور ہر قسم کی دہشت گردی میں اہم ترین مقام کے حامل ہوں گے اور رائے عامہ اُن کے مکمل خلاف ہونے کے باوجود وہ لوگ ہی گھوم پھر کر حکومت کے ایوانوں میں براجمان ہوں گے۔ اسی کی دہائی سے آج تک کئی بار نواز شریف اور اُس کے خاندان و اقرباء پاکستان کی حکومت پر قابض رہے ہیں اور ہر بار دہشت گردی، لوٹ مار اور اس جیسے انسانیت سوز جرائم کی بنا پر حکومت سے نکل کر حزبِ مخالف بنے ہیں۔ اسی طرح بھٹو خاندان بھی ستر سے آج تک پاکستان کی حکومت پر قابض چلا آرہا ہے اور ہر بار دہشت گردی، لوٹ مار اور شریف خاندان کے ہم پلہ جرائم کی بنا پر حزبِ اقتدار سے حزبِ اختلاف کے بنچوں پر براجمان ہوا ہے۔ ایم کیو ایم یا ایسی دیگر سماجی و ثقافتی دہشت گردی میں بدنام ترین گروہ بھی تمام تر عوامی نفرت کے باوجود حکومت میں پورے طنطنے سے موجود رہے ہیں ۔ صرف اِس لئے کہ یہ سب لوگ اور گروہ اہلِ مغرب کے مقصد یعنی پاکستان کے عوام کو غریب سے غریب تر بنانے میں کوشاں رہتے ہیں۔ اِنھیں مخصوص مقاصد کو مخصوص عرصے تک پورا کرنے کے احکامات دیے جاتے ہیں اگر کوئی بھی گروہ اُن احکامات سے رُو گردانی کرتا پایا جاتا ہے تو ایک تیسری قوت جسے فوج کہا جاتا ہے وہ حرکت میں آ کر اقتدار پر قبضہ کر لیتی ہے اور نواز شریف، بینظیر وغیرہ کو سزا کے طور پر اپنے آقاؤں کی خدمت میں منت سماجت کرنے مغربی ممالک کی خاک چھاننے بھیج دیا جاتا ہے۔
پھر جب اہلِ مغرب کو اِن کی ضرورت پیش آتی ہے تو این آر او برپا کیا جاتا ہے اور تمام دہشت گردوں کو تھوک کے حساب سے معافی مل جاتی ہے اور اُن میں سے جو غلامی و فاداری کے وعدوں میں سبقت لے جاتا ہے اُسے اقتدار سونپ دیا جاتا ہے۔ رائے عامہ کو قابو میں رکھنے کیلئے یہ کہا جاتا ہے کہ لوگوں نے ہمدردی کا ووٹ دیا تھا یا پھر گذشتہ حکومت کی ناقص کارکردگی کی بنا پر ناراض ہو کررد کر دیا ہے۔ سفید جھوٹ ہے یہ سب کیونکہ اگر پاکستان کے عوام کو کبھی بھی شفاف اور بے داغ حقِ رائے دہی کا موقع ملے تو یقیناًگذشتہ ناقص کارکردگیوں کی بنا پر وہ تمام سیاسی دہشت گردوں اور گروہوں کو اِس نظام سے نکال باہر کریں اور کوئی بھٹو، زرداری، شریف، مولانا، الطاف وغیرہ ایک بار کی ناقص کارکردگی کے بعد سیاست میں قدم نہ رکھ پائے۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں کیونکہ غلاموں کو امارت اہلِ مغرب کے ہاں نہیں ملتی، ایسا صرف ریاستِ مدینہ کے طرزِ حکمرانی میں ہی ممکن ہوا ہے اور ہو سکتا ہے جہاں ایک غلام زادہ عرب کے بڑے بڑے سرداروں اور جلیل القدر اصحاب کی قیادت کرتا ہے۔

ہمارا موضوع ہے، آئی ایم ایف اور اب اُس کی جانب آتا ہوں۔ آئی ایم ایف تیسری دنیا کو قرضوں کی فراہمی کے سلسلے میں مرکزی کردار کا حامل ادارہ بن چکا ہے۔ اس کا مشن ہے تیسری دنیا کے ممالک کو اپنے بین الاقوامی واجبات کے ادائیگی میں درپیش ناکامی کی صورت میں امریکی ڈالر کی قرضوں کی صورت میں فراہمی تاہم یہ قرضے تبھی فراہم کئے جاتے ہیں جب کوئی ملک آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق اپنی معیشت میں تبدیلیاں کرے اوریہ شرائط ہمیشہ غریب شکن رہی ہیں۔ اِن میں خال ہی کبھی معاشی ، سماجی و سیاسی دہشت گردی سے نجات کو اولین یا ثانوی حیثیت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، بلکہ اکثرشرائط کا تعلق عوام پر معاشی بوجھ میں اضافہ کرنا ہوتا ہے جیسا کہ حال ہی میں پاکستان کی نو منتخب حکومت نے اپنے منظور کردہ بجٹ میں عائد کردہ محصولات کے بے پناہ بوجھ سے کیا ہے۔ معروف معاشی ماہر ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کے مطابق اگر ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس موثر طور سے نافذ اور وصول کیا جائے تو جنرل سیلز ٹیکس (فدوی کے خیال میں اِس کا نام جنرل پرچیز ٹیکس ہونا چاہیے) کو پانچ فیصد پر لانا ممکن ہو سکتا ہے۔ اور مزید یہکہ مسلم لیگ ن کے انتخابی منشور میں بھی یہ درج ہے کہ ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس لگا کر جنرل سیلز ٹیکس کو پانچ فیصد کی سطح پر لایا جائے گا اور اسی منشور کی بنا پر اِس گروہ نے مبینہ طور پر اِس ” تاریخ ساز شفاف انتخاب ” میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ” کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ حکومت ہر قسم کی آمدنی پرٹیکس موثرطور پر نافذ کرنے سے اس لئے گریزاں ہے کہ اِس خود اِس کے اراکین اسمبلی اور دوسرے طاقتور طبقات کے ناجائز مفادات پر ضرب پڑے گی؟” ۔
تمام پرانی سیاسی جماعتیں ایک سے زائد بار اپنے اپنے دائرۂ کار و استعداد کے مطابق حکمرانی کے جوہر دکھا چکی ہیں اور ملک کی موجودہ (تباہ کن)صورتِ حال میں اپنا حصہ بقدرِ جثہ بخوبی ڈال چکی ہیں ۔ گذشتہ انتخابات سے قبل عوامی مقبولیت دلوانے کیلئے میڈیا آصف علی زرداری کے بارے میں یہ کہتا نہیں تھکتا تھا کہ اُنھوں نے اپنے تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ ملک و قوم کیلئے نہائت خوش آئند و مفید اقدامات کریں گے، حالیہ انتخابات میں بالکل اسی قسم کا میڈیا نواز شریف کے بارے میں پھیلایا جا تا رہا اور رائے عامہ کو اُن کے حق میں ہموار کیا گیا۔ اقتدار میں آنے سے قبل اور بعد میں اُن کے اور اُن کی جماعت کے دعووں میں کسی قسم کا کوئی لگاؤ نظر نہیں آرہا۔ اب آئندہ ملکی سیاست میں اہم ترین کردار پاکستان تحریک انصاف اور اُس کی نظریاتی حامی جماعتوں کا ہو گا، یہ واضع طور پر نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔

پاکستانی معیشت اور سماجی استحکام کی اہم ترین کڑی امیر اور غریب کے مابین وسیع فاصلہ ہے جو کہ نہائت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ استحکام کسی شعبدہ بازی یا ہیر پھیر سے کسی طور بھی کم نہیں ہو گا۔ معاشی و سماجی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کرنا ہوگی۔ مقامی سرمایہ کاری، مقامی طلب و رسد کے اصولوں کو بنیادی اہمیت دے کر معیشت کی تعمیر و ترقی کرنا ہوگی بیرونی سرمایہ کاری اور برآمدات و درآمدات کی سیاسی معیشت کبھی بھی اِس ملک کی معاشی ترقی میں معاون ثابت نہ ہوگی نہ ہی تاریخ میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے کہ کسی بھی قوم کی معاشی ، سماجی و سیاسی ترقی کی بنیاد ایسی معاشی پالیسی ہو سکی ہے۔
جدید علوم اور عالمی تجربات نے سرمایہ کاری کیلئے بیش قدر نئی راہیں اور محفوظ تر طریقے دریافت کئے اور اپنائے ہیں۔ مقامی سرمایہ کو ” ڈبل شاہوں ” کی دست بُرد سے بچا کر ملکی و قومی تعمیر و ترقی کے منصوبہ جات اور اداروں کی جانب مبذول کروانا وقت کی اشد ضرورت ہے اور بیرونی قرضہ جات سے چھٹکارا حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ پاکستان کے عوام کو ملک میں منفعت بخش سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنا اور بے کار امور میں سرمایہ کے ضیاع سے روکنا بے حد ضروری ہے ۔ پیروں، ملاؤں، شعبدہ بازوں، مقدموں، شادیوں، بھیڑ چالوں اور اِس جیسی دیگر قباحتوں کے ہاتھوں تمام تر ملکی سرمایہ کے ضیاع کو ہنگامی حالات میں منفعت بخش و پیداواری ذرائع کی جانب لانا ہوگا۔ اِیسا ممکن کرنے کیلئے سیاست کو نفع بخش کاروبار کی بجائے کانٹوں کی سیج بنا نا ہو گا تاکہ اربوں اور کھربوں کا یہ قبیح کاروبار ختم ہو اور یہ سرمایہ بھی ملکی تعمیر و ترقی کے طرف لایا جا سکے۔ میں ایک معمولی سی مثال پیش کرتا ہوں کہ چند ماہ قبل ایک مذہبی سیاستدان کینیڈا سے اِس ملک میں انقلاب برپا کرنے تشریف لائے۔ اُن کی آمد سے قبل اربوں روپے اُن کی تشہیر و نمائش پر خرچ ہوئے ۔ چند ہفتوں تک چلنے والے اُن کے انقلاب نے اِس ملک کو درجنوں ارب روپے کے نقصان سے دوچار کیا ۔ اسی طرح حالیہ انتخابات میں کھربوں روپے سیاست کی دوکانیں چمکانے میں برباد ہو گئے۔ اگر یہ زرِ کثیر بچائی جا سکے تو اِس ملک کی معیشت کو آٹھ سے دس فیصدی ترقی دینا کوئی مشکل کام نہیں ۔
آخر میں اسحاق ڈار سمیت تمام معاشی شعبدہ بازوں کی خدمت میں عرض ہے کہ قرضے کبھی بھی ملک کو تعمیر و ترقی کی راہ پر نہیں ڈال سکتے آپ کو لوٹی ہوئی اور ضائع ہوتی قومی دولت کو بچا کر ملکی معیشت میں لانا ہوگا۔ عوام پر ٹیکسوں اور محصولات کا مزید بوجھ ملکی سرمایہ کاری کے عمل کو مزید تباہ کر رہا ہے۔ مہنگائی کے شترِ بے مہار نہ صرف معاشرتی ڈھانچے میں تخریب کاری کر رہا ہے بلکہ قومی بچت کی ناپیدگی مقامی سرمایہ کاری ، معاشرتی و معاشی ترقی کی اُمید کو بھی موہوم تر کر رہا ہے۔ غیر ملکی امداد اور توانائی کے ذرائع کی بجائے ملک کو طویل المدت پالیسی کی اشد ضرورت ہے کہ ملک میں توانائی کو مکمل طور پر مقامی ذرائع سے حاصل کیا جائے اور اِس سلسلے میں تمام تر یا بیشتر سرمایہ کاری مقامی ہو تاکہ غیر ملکی غلامی کے طوق کو گلے سے اُتار پھینکا جائے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s