تعارف

مندرجہ ذیل سطور امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق اور طویل ترین عرصے تک رہنے والے سربراہ جارج ٹینٹ کی خود نوشت کے مختلف اوراق کے تراجم ہیں۔ذیلی سطور میں بیان کردہ تاثرات، خیالات و نظریات جارج ٹینٹ کے ہیں اور مترجم کا اُن سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ چونکہ پاکستان میں جاری دہشت گردی کو سمجھنے کیلئے دوطرفہ موقف کو سمجھنا ضروری ہے لہذا میری کوشش ہے کہ میں ایسی تصانیف اور تحریریں قارئین کے سامنے پیش کر سکوں جو کہ عالمی سطح پر خاطر خواہ اہمیت کی حامل ہوں۔

طوفان کا پیش خیمہ

اسلامی شدت پسندی کے سمندر کی تہہ میں بے شمار وجوہات کی بنا پر مغرب کے خلاف نفرت کا طوفان پل رہا تھا۔ ہم اِس طوفان کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ رہے تھے ۔ہمارے سامنے کچھ لوگ نفرت کے اِس طوفان کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے اور اِس کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھالنے میں کوشاں تھے اور ہم اپنی بھر پور کوشش کر رہے تھے کہ کسی طرح اِس طوفان کا زور کم کر دیں یا اِس کا رُخ موڑ سکیں۔ تاہم اِ س جد و جہد کا آغاز مجھ سے نہیں ہوا ۔ اپنی ہی افسر شاہی کی تر جیحات کو از سرِ نو مخصوص خطرات پر مرکوز رکھنے کے طریقوں کی تلاش میں سرگرم، سی آئی اے کے سربراہ جان ڈچ نے 1996 ء میں جاسوسی کیلئے مخصوص نہائت قلیل رقم سے کچھ حصہ ایسے شعبوں کے قیام کیلئے مختص کیا جو اگرچہ کام تو امریکہ کی سرزمین پر کر رہے ہوں گے مگر اُن کی ہیئت و ساخت سے اُن کے امور کا درجہ بیرونِ ملک کئے جانے والے آپریشنز کا ہو گا۔ یہ ورچوئل اسٹیشن ہمارے مرکزی دفاتر سے دور ہوں گے اور قلیل تعداد میں لوگوں پر مشتمل ہوں گے جن میں تجزیہ کار اور عملی امور سے منسلک افراد شامل ہیں۔

بعد ازاں ایسا صرف ایک مرکز قائم کیا جا سکا۔ جس کے قیام کا طے کردہ مقصد تھا ” دہشت گردوں کے معاشی روابط” ۔ اُسامہ بن لادن، جو اُ س وقت تک ایک مبہم نام تھا، اکثر و بیشتر خفیہ اداروں کی جانب سے حاصل کردہ معلومات کے انبار میں اچھل کود کرتا نظر آنے لگا۔ اسامہ بن لادن ، ایک سعودی تعمیراتی ادارے کے ارب پتی مالک کی دسویں بیوی سے اکلوتا بیٹا تھا۔ ایجنسی (سی آئی اے) نے90 ء کی دہائی کے آغاز میں کئی دہشت پسند گروہوں سے متعلقہ کاروائیوں کے دوران اسامہ بن لادن کے قدموں کے نشانات دیکھے۔ تاہم ہمارے لوگ نہیں جانتے تھے کہ یہ سعودی جلاوطن جو سوڈان میں مقیم ہے، اِس کے عزائم کیا ہیں، لیکن اتنا سمجھ گئے تھے کہ جو بھی ہے ، اچھا نہیں ہے۔ میرے سی آئی اے کے سربراہ بننے سے کم از کم دو سال قبل، 1993 ء میں سی آئی اے نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ اُسامہ بن لادن اسلامی دہشت پسند تحریکوں کا ایک اہم معاشی سر پرست ہے۔ ہم جان چکے تھے کہ وہ عرب جنگجوؤں کی دور دراز ملکوں جیسے بوسنیا، مصر، کشمیر، اردن، تیونس، الجیریا اور یمن میں عسکری تربیت کیلئے مالی معاونت فراہم کر رہا ہے ۔

اُسامہ بن لادن ، دہشت کی دنیا کی دہلا دینے والی کئی مثالوں میں سے ایک تھا۔ عرصۂ دراز سے چلے آتے خطرات جیسے حزب اللہ، حماس، مصری اسلامی جہاد، اور درجنوں دیگر مخالف گروہ ، نمایاں مقام حاصل کرنے کیلئے اُس کے مقابلے پر تھے تاہم نوے کی دہائی کے وسط میں سی آئی اے کے ہاں اُسامہ بن لادن کو اہم ترین اور مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی تھی۔ مثال کے طور پر مارچ 1995 ء میں پاکستانی تفتیش کاروں نے ہمیں بتایا کہ رمزی یوسف، جو کہ 1993 ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کا ذمہ دار تھا، اور حال ہی میں اسلام آباد سے گرفتار ہو تھا، اُس نے حالیہ دنوں میں ایک طویل عرصہ اسامہ بن لادن کی ملکیتی پشاور کے ایک مہمان خانے میں گذارا تھا۔

کچھ ہی عرصے میں دہشت گردوں کے معاشی روابط کی تلاش سے متعلق سی آئی اے کا مخصوص شعبہ، بن لادن کے مسئلے کیلئے مخصوص ہو گیا۔ اور اِس کا خفیہ نام الیک اسٹیشن رکھا گیا۔ اِس شعبے کے پہلے سربراہ مائک سکیوئر نے یہ نام اپنے بیٹے کے نام پر رکھا۔ اِس شعبے کے قیام کا منصوبہ یہ تھا کہ یہ شعبہ د و سال تک کام کرے گا تب تک یہ تجرباتی شعبہ ترقی کر تے کرتے انسدادِ دہشت گردی کے مرکز میں تبدیل ہو جائے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ یہ شعبہ ایک دہائی تک قائم رہا۔

اَسی کی دہائی میں روسیوں کو افغانستان سے باہر دھکیلنے کی جنگ کے آخری مراحل کے دوران اُسامہ بن لادن نے کئی اسلامی شدت پسندوں سے تعلقات استوار کئے۔ انھی شدت پسندوں نے بعد ازاں ایک تنظیم قائم کی ، جسے القائدہ کے نام سے جانا گیا۔ ایک انٹرویو (1988) کے دوران اُسامہ بن لادن نے بتایا کہ ایک روسی توپ کا گولا اُس کے پیروں پر آن گراا ور جب وہ نہ پھٹا تو اُسے سمجھ آگئی کہ یہ اللہ کی جانب سے ایک اشارہ ہے کہ اُسے اللہ کے دشمنوں سے جنگ لڑنی ہے۔ اِس واقعے کو زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ اُس نے اپنی ذاتی دولت کوعرب افغان جنگجو ؤں کی تربیت اور اُنھیں مسلح کرنے میں خرچ کرنا شروع کر دی تاکہ اُنھیں جہاد کیلئے تیار کیا جا سکے جو کہ افغانستان سے نکل کر پوری دنیا میں پھیلنے والا تھا۔ (انٹرنیٹ پر سرگرم سازشی عناصر اِس افواہ کو گرم رکھتے ہیں کہ بن لادن روس کے خلاف افغان جنگ میں سی آئی اے کیلئے کسی نہ کسی طور پر کام کرتا رہا ہے یا پھر امریکی حکومتی اہلکاروں سے غیر رسمی تعلقات کا حامل رہا ہے۔ میں اِس بات کو یکسر واضح کر نا چاہتا ہوں کہ روس کے افغانستان میں ناکام کاروائیوں کے دوران سی آئی اے کا اُسامہ بن لادن کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رہا)۔

اُسامہ بن لادن، روس کے افغانستان سے 1989 ء میں نکلنے کے بعد سعودی عرب لوٹ آیا لیکن سعودی حکومت پہلے ہی شدت پسندوں کے ہاتھوں شدید نالاں تھی اور جلد ہی اُسامہ بن لادن اپنے خاندان کے اثر و رسوخ کے باوجود سعودی حکومت کے ساتھ مخاصمت میں مبتلا ہو گیا۔ سعودی عرب کا امریکہ کے ساتھ عراق پر حملے کے دوران گہرا تعاون اور بالخصوص سعودی سر زمین پر امریکی فوجوں کو قیام کرنے کی اجازت نے اُسامہ بن لادن کے دل میں مغرب کی نفرت کو اور مزید گہرا کر دیا اور سعودی حکومت کے ساتھ اُس کے تعلقات کو بے حد مخدوش کر دیا۔ 1991 ء میں سعودی اسامہ بن لادن کو سوڈان کی جانب کوچ کرتا دیکھ کر ششدر رہ گئے۔

خرطوم میں اُسامہ بن لادن کا بے حد گرمجوشی سے استقبال کیا گیا اور اِس کے بعد وہ ہماری زیادہ سے زیادہ توجہ کا مرکز بنتا چلا گیا ۔ ملک کے سربراہ ، حسن الترابی نے اُسے جنوبی سوڈان میں سر گرم عیسائی علیحدگی پسندوں نے نپٹنے میں مدد کیلئے مدعو کیا تھا۔ اُس کو کاروباری اداروں کا ایسا جال بنانے کی دعوت دی جو بعد ازاں اسامہ کے عالمی دہشت گردی کے سلسلے کا پیش خیمہ ثابت ہوا ۔ اِس کے ساتھ ہی ساتھ ، اُسامہ بن لادن مشرقِ وسطیٰ میں جہادی تنظیموں کو مالی امداد فراہم کر رہا تھا اور دنیا بھر میں جنگجوؤں کے تربیتی مراکز میں اپنے قدم جما رہا تھا۔

ابتداء میں ہمارا خیال تھا کہ اُسامہ بن لادن محض ایک معاشی سرپرست ہے اور جنوری 1996 ء میں ہم نے اُس کو اسی حیثیت میں درج کیا تھا ۔ تاہم الیک اسٹیشن اپنی فعالیت کے مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کی تصویر بنا رہا تھا جو صرف ایک سعودی امیر کبیر مہم جو اور مغرب سے نفرت کرنیوالے سے کہیں بڑا تھا۔ ہمیں معلوم ہوتا جا رہا تھا کہ اُسامہ بن لادن دراصل بدی کا سر چشمہ تھا۔ بد قسمتی سے خرطوم میں امریکی سفارت خانہ امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال اور امریکی افسران کو درپیش خطرات کے تحت 1996 ء میں بند کر دیا گیا تھا۔ دیکھا جائے تو یہ ایک غلطی تھی، ہم نے وہاں (سوڈان میں) پھلتی پھولتی دہشت گردی پر نظر رکھنے والی ایک اہم کھڑکی بند کر دی تھی۔ تاہم اگر جاسوسی موثر بھی ہوتی تب بھی (دہشت گردی کا)یہ سلسلہ برقرار رہتا۔

سوڈان میں بن لادن نے کئی کاروبار ی ادارے قائم کئے جن میں روس کے خلاف افغان جنگ کے منجھے ہوئے (عرب و افریقی) جنگوؤں کو ملازمت کے مواقع فراہم کئے گئے۔ یہ کاروبار بے حد منفعت بخش ثابت ہوئے اور اُسامہ بن لادن کے دولت میں کئی گنا اضافے کا باعث بنے۔ تاہم (سی ۔آئی۔اے کیلئے) زیادہ پریشان کن امر یہ تھا کہ بن لادن نے بذاتِ خود (عسکری) کاروائیوں کی منصوبہ بندی اور اُن سے متعلقہ ہدایات جاری کرنا شروع کر دیں تھیں۔ 1996 ء تک ہم جان گئے تھے کہ بن لادن ایک مالی سرپرست سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ القائدہ کے ایک بھگوڑے نے ہمیں بتایا کہ بن لادن ایک عالمی دہشت گرد تنظیم کا سربراہ ہے جس کو ایک مجلسِ شوریٰ چلاتی ہے جس میں ایم الاظواہری جیسے افراد شامل ہیں اور مزید یہ کہ وہ امریکی کی سرزمین پر امریکہ کے خلاف کاروائی کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ القائدہ نے ایسا مواد حاصل کرنے کی بھی کوششیں شروع کر رکھی ہیں جو کیمیائی، حیاتیاتی، تابکار، اور نیو کلیائی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔ وہ (اُسامہ بن لادن) اِس حد تک جا چکا تھا کہ اُس نے ایک مصری ماہرِ طبیعات کو سوڈان میں نیو کلیائی و کیمیائی ہتھیاروں کے منصوبوں پر کام کرنے کی ملازمت دی۔ وہاں (سوڈان میں ) قائم شدہ القائدہ کے اڈوں میں ، القائدہ کے عاملین نے زہریلی گیسوں کی ترسیل کے تجربات کئے جن کا مقصد سعودی عرب میں مقیم امریکی فوجیوں کو ہدف بنانا تھا۔

اسی بھگوڑے نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ تین سال قبل بن لادن نے اپنے کچھ لوگ صومالیہ میں جنگی سردار محمد فرح عدید کی راہنمائی کیلئے بھی بھجوائے تھے۔ فرح عدید اُس وقت امریکی افواج پر حملوں میں مصروف تھا۔ یہ افواج انسانیت دوستی منصوبے بحال�ئ امید (Operation Restore Hope) ، جو کہ صومالیہ میں قحط اور ابتری کا شکار لوگوں کی معاونت تھی،کیلئے صومالیہ میں تعینات تھیں۔ درحقیقت صومالی تجربے نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے بارے میں اُسامہ بن لادن کے تصور میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اُس نے عوامی سطح پر یہ کہا تھا کہ صومالیہ سے امریکیوں کا بھاگ نکلنا یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکی نازک ہیں اور امریکہ محض کاغذی شیر ہے جس کو شکست دینا روس کو افغانستان میں شکست دینے سے بھی زیادہ آسان ہوگا۔

جب ریاستہائے متحدہ امریکہ نے سوڈان پر اُسامہ بن لادن کو ملک سے نکال باہر کرنے کیلئے دباؤ ڈالنا شروع کیا تو وہ اپنے میزبان پر ایک بوجھ بن کر رہ گیا۔ تاہم (سوڈان کے سامنے) یہ سوال کہ اُسامہ کو کہاں بھیجا جائے، سب سے بڑی مشکل تھی۔ سعودی عرب نے 1994 ء میں اُسی شہریت منسوخ کر دی تھی اور یقینانہیں چاہتے تھے کہ وہ واپس سعودی عرب لوٹے۔ اخبارات اور انٹرنیٹ پر پھیلائی گئی افواہیں آج بھی یہ کہتی ہیں کہ سوڈانیوں نے اُسامہ کو امریکہ کے حوالے کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن میں ایسی کسی شہادت سے واقف نہیں جو اِس کو ثابت کرے۔

ہم جس بات سے باوثوق انداز میں واقف ہیں وہ یہ ہے کہ 19 مئی 1996 ء کو اُسامہ نے بظاہر اپنے فیصلے کے تحت سوڈان چھوڑ دیا اور افغانستان چلا گیا۔ یہ کئی پہلوؤں سے ہمارے لئے بد ترین صورتِ حال تھی۔ افغانستان ایسے وقت میں ایک ، افغانی رائے میں بھی، ایک ہولناک خانہ جنگی میں مبتلا تھا اور جلد ہی طالبان کی جھولی میں جا گرنے کو تھا جو ظالم، جابر اور پس ماندہ متعصب افراد کا ایک گروہ ہے۔ لا محالہ، اُسامہ بن لادن نے نہائت سرعت کے ساتھ طالبان کے سربراہ ملا عمر اورطالبان حکمرانوں کے ساتھ اتحاد کر لیا ۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہمارے سامنے کی صورت ایسی تھی جس میں کوئی ریاست دہشت گردی کی سرپرستی نہیں کر رہی تھی بلکہ دہشت گردی ایک ریاست کی سر پرستی کر ہی تھی۔

بہت جلد خطرات کے کالے بادل افغانستان کے اُفق سے نمودار ہونے لگے۔ برطانوی اخبار انڈیپینڈینٹ میں جولائی 1996 ء کوشائع شدہ ایک داستان میں اُسامہ بن لادن کے حوالے سے بیان کیا گیا کہ گذشتہ ماہ خُبر ٹاورز (سعودی عرب) میں امریکیوں کی موت مسلمانوں اور امریکہ کے مابین جنگ کا آغاز ہے۔ اگلے ماہ یعنی اگست (1996) میں اُسامہ نے دیگر بنیاد پرست مسلمان (علماء)کے ساتھ مل کر ایک فتویٰ شائع کیا جس میں اعلانِ جنگ کیا گیا اورجزیرہ نمائے عرب پر واقع مغربی عسکری تنصیبات پر حملوں کیلئے رحمتوں و برکتوں کا اعلان کیا گیا ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s