کیا آمریت محض فوجی وردی میں ملبوس اشخاص کے حکومت پر غیر آئینی طریقے سے برا جمان ہونے کا نام ہے؟کیا آمرانہ طرزِ عمل پر چلائی جانے والی نجی تنظیموں(نام نہاد نظریاتی،جمہوریت،سیاسی جماعتوں)کے سربراہوں کا کھلم کھلا اسلحہ بردار جتھوں کے ذریعے انتخابی عمل پر قبضہ اور اُسکے ذریعے حکومت پر قبضہ آئینی و قانونی عمل ہے؟حالیہ انتخابات میں ہونے والی غنڈہ گردی و لوٹ مار کے بعد کیا کوئی بھی اِس طرزِ حکومت کو جمہوریت کا نام دے سکتا ہے؟ قطعاً نہیں۔ اہم ترین امر تو یہ ہے کہ جمہوریت کا فروغ تو کسی طور پر بھی یہاں کے حکمران طبقے کے ” وارے” میں نہیں ہے جو اِس ملک کے غلیظ اور بد بو دا ر لوگوں سے کوسوں دور کا فاصلہ رکھتے ہیں۔ وہ طبقہ جواِس ملک کے عوام سے سالانہ کھربوں روپے اینٹھتا ہے اور اُس کا ایک بڑا حصہ سیکیورٹی کے نام پر اِس ملک کے عوام اور اپنے درمیان دیواریں کھڑی کرنے میں صرف کرتا ہے۔

آج مئی کی اٹھائیس تاریخ کو جب اِس ملک کے کیڑ ے مکوڑوں کو ہر ایرا غیرا نتھو خیرا یہ باور کروانے میں کوشاں ہو گا کہ ایٹم بم اُس نے بنایا ہے اور اِ س کو بنا کر اُس نے اِس ملک کی آئندہ نسلوں پر احسان عظیم کیا ہے تو میں کیٹی بندر سے لیکر طور خم تک بسنے والے مجھ جیسے ہر کیڑے مکوڑے سے سوال کر تا پھر رہا ہوں کہ اِس منحوس ایٹم بم کا ہماری اور تمہاری زندگی پر کیا اثر پڑا ہے؟ کچھ دانشور حضرات کہتے ہیں کہ ایٹی دھماکہ کرنے کے بعد ہم زیادہ مامون ہو گئے ہیں تو میں اُن سے پوچھتا ہوں کہ جناب پھر یہ دھماکے کرنے کے ساتھ ہی پاکستان پر کروز میزائل اور بعد ازاں ڈرون حملے کیسے شروع ہو گئے۔ دنیا بھر کی افواج ہر قسم کی مہلک اسلحے سے لیس ہو کر اِس ملک پر کیسے چڑھ دوڑیں؟ اگر ہم واقعی محفوظ ہو گئے تھے تو کارگل کے حملے کے بعد وہاں شہید ہونے والے فوجیوں کی نعشیں تو طلب کر کے اُنھیں باعزت تدفین کر لیتے۔ ہم ایٹمی دھماکے کے بعد محفوظ ہیں تو 2001 ء سے اب تک جاری جنگ ہماری سالمیت و بقاء کو خطرے میں کیسے ڈالے ہوئے ہے؟ملک بھر میں پچاس ہزار افراد اِس جنگ کا لقمہ کیسے بن گئے؟

جنرل ایوب،جنرل ضیاء،اور جنرل پرویز اشرف کے ادوار میں مجموعی طور پر کراچی یا اندورنی ملک حکومتی سرپرستی میں منعقد کرائے گئے فسادات اور دہشت گردی کے واقعات کی تعداد کیا ہے؟ جبکہ محض2008-13کے دوران صرف کراچی شہر میں حکومتی سرپرستی میں برپا کی گئی دہشت گردی اور قتل و غارت کے واقعات اور انکے نتیجے میں ہونے والی جانی و مالی نقصان کا کسی بھی بد ترین دہشت گردی سے کیا جا سکتا ہے؟ جنرل آصف زرداری،جنرل نواز شریف،جنرل الطاف حسین اور جنرل اسفند ولی یار خان نے مل جُل کر گذشتہ پانچ سال میں اس ملک کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اُس کے بعد آج اگر کوئی فوجی اس ملک پر قبضہ جما لیتا ہے تو ملک بھر کے حلوائیوں کے ہاں کئی روز تک مٹھائیاں ناپید ہو جائیں گی۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت تیسری بار اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے جا رہی ہے۔جبکہ صوبائی حکومت پر قبضے کی پانچویں یا چھٹی باری ہو گی۔ہر بار ان کی حکومتیں کم و بیش اُنھی وجوہات کی نہاد پر برطرف ہوئیں جو ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کی حکومتوں کی برطرفی کا باعث بنتی چلی آ رہی ہیں یعنی بد معاشی،بد عنوانی،دہشت گردی،لوٹ مار،اختیارات ر مکمل و بے نہاد گردت اور اس زمرے میں اداروں کی تباہی۔دونوں مرکزی جماعتیں(مسلم لیگ(ن)و پیپلز پارٹی) نظریاتی طور پر مشترک اسباب کی حامل ہیں دونوں گروہوں کے مزاج ایک سے ہیں اور دونوں کا نصب العین ایک ہے۔میرے لئے حقیقت وہ نہیں جو ا ن گروہوں کے نمائندے بیانات اور پروپیگنڈہ دستاویزات میں دکھائی جاتی ہے۔ بلکہ حقیقت وہ ہے جو کہ ان کی حکومتوں کی کارکردگی سے عیاں ہے۔

نواز گروپ کی حکومت آئندہ چند روز میں با ضابطہ طور پر قائم ہو جائے گی۔میرے سامنے اسکرینوں پر شریف برادران کی انتخابی مہم کے دوران تقریروں،ٹی وی و اخبارات کے ذریعے عوام سے کئے گئے وعدوں اور قوم کو دکھائے گئے سبز باغات کی ویڈیو چل رہی ہیں۔شریف برادران سے لیکر مفتاح اسماعیل جیسے نومولود سیاسی کردار تک ہر کوئی ملکی مسائل کے حل کی نہ صرف یقین دہانیاں کروانے میں سبقت لے جاناچاہتا ہے بلکہ ان تمام مسائل کے حل کی تاریخیں بھی دی جا رہی ہیں۔دوسری جانب انتخابات میں کامیابی کی بعد کی صورتِ حال ہے جس میں قبلِ ازیں کئے گئے وعدوں سے مکرنے کا عمل جاری ہے۔دہشت گردی،بے روزگاری،ہوش رُبا مہنگائی اور توانائی کے بحران کی بجائے بھارت سے غیر مشروط تعلقات،سعودی عرب،امریکہ و چین کی چاپلوسیاں نظر آرہی ہیں۔تصویر کے دونوں رُخ دیکھتے ہوئے مجھے اس حکومت کی آئندہ کارکردگی کسی طور پر گذشتہ ادوارِ حکومت سے مختلف نظر نہیں آتیں۔چند ہفتوں یا مہینوں میں اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کی لپیٹ میں آ کر کریش ہو جائے گی۔ابھی جس حُب الوطنی سے قرضوں کے پہاڑ کو ملک پر لادنے کی کوشش کی جا رہی ہے ایک دو سالوں میں اُسے اُتارنے کے لئے لوگوں سے اپنی جمع پونجی اور زیورات تک حکومت کے حوالے کا حکم ہو گا تا ہم قرض نہیں اُترے گا۔ہاں اگلے چند سالوں میں جہاں ملکی معیشت و سماجی زندگی زوال کا شکار ہو گی وہاں حکمرانوں کے حرم اور وسیع ہو ں گے۔جائیدادوں میں بیش قدر اضافے ہوں گے اور جمہوریت مستحکم ہو گی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s