انتخابات کے بعد حکومت ساز جماعتوں، بالخصوص مسلم لیگ ن کے قائدین کی سرگرمیوں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کو آئندہ ایام میں اہم ترین حیثیت حاصل ہو گی۔ اگر اِس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان تحریکِ انصاف نے اپنے لئے کانٹوں کا بستر پایا ہے کہ اُسے افغانستان، امریکہ، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان قیامِ امن اور دہشت گردی کے خاتمے کی اہم اور مشکل ترین ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی مقبولیت کی وجہ بھی دہشت گردی کے حوالے سے عوامی امنگوں اور خواہشات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا ہے ۔ پاکستان کے دیگر صوبہ جات میں بسنے والے افراد کسی طور بھی خیبر پختونخوا اور فاٹا کے عوام پر امریکی جنگ، سیلاب اور زلزلوں سے نازل شدہ قیامت کا انداز نہیں کر پا رہے یا سرے سے کرنا ہی نہیں چاہتے ۔

تاہم بین الاقوامی و مقامی سیاسی ادارے و افراد اچھی طرح واقف ہیں کہ دہشت گردی کے تدارک کو اپنا نصب العین قرار دینے والی تحریکِ انصاف ہی در اصل اِس مسئلے کو حل کر نے کی صلاحیت کی حامل ہے (کم از کم ابھی تک ) اور یہی وجہ ہے کہ نواز شریف صاحب (امریکہ، سعودی عرب، بھارت اور دیگر اقوامِ مغرب کی سرپرستی سے ) نے انتخابات کے بعد تحریکِ انصاف کی خیبر پختو خوا میں حکومت سازی کی حمائت کی کیونکہ بصورت دیگر مسلم لیگ ن و جمعیت علماء اسلام (ف) کے اشتراک سے بننے والی حکومت کا انجام اور کار کردگی کسی طور بھی اے این پی کی حکومت سے مختلف نہ ہوتی۔

خیبر پختونخوا میں قیامِ امن، معاشی، سماجی و مذہبی استحکام نہ صرف پاکستان کے معاشی، سماجی و سیاسی استحکام کے لئے اہم ترین ہے بلکہ 2014 ء میں امریکی و دیگر یورپی افواج کے پر امن انخلاء اور بعد ازاں افغانستان میں قیامِ امن ، معاشی و سیاسی ترقی کی ضمانت بھی خیبر پختون خواہ اور فاٹا ہی دے سکتا ہے ۔ روس کے خلاف جنگ سے آج تک افغانستان میں جاری تمام تر کاروائیوں، عسکری، معاشی و سیاسی، کا اہم ترین مرکز کابل کی بجائے خیبر پختون خواہ اور فاٹا کا علاقہ رہا ہے ۔ روس کے افغانستان پر قبضے سے تادمِ تحریر خوراک، ادویات و دیگر ضروریاتِ زندگی کے ساتھ ساتھ سامانِ حرب و تربیتی عوامل کی فراہمی کی تمام تر کاروائیاں انھی علاقوں کی مرہونِ منت ہیں۔ اگر خیبر پختون خواہ اور فاٹا کے علاقوں پر ایک موثر حکومت جو اِن علاقوں میں بسنے والے عوام کی علمی، عملی، سیاسی، معاشی و سماجی تربیت کے عزم اور قابلیت کی حامل ہو ، جو کہ تادمِ تحریر تحریکِ انصاف ہے، قائم نہ ہوتی تو کسی طور پر بھی پاکستان بھر سمیت افغانستان میں دہشت گردی اور انتشار میں کمی ممکن نہ تھی۔

تمام تر شدت پسندگروہ خیبر پختون خواہ اور فاٹا کے علاقوں میں اپنے مضبوط اور مستحکم اڈے قائم کئے ہوئے ہیں۔ فقیر ایپی سے حکیم اللہ محسود تک تمام شدت پسند تحریکوں کو فوج کشی کے ذریعے دبانے کی برطانوی، پاکستان، روسی اور امریکی کوششیں ناکام چلی آرہی ہیں۔ پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو عالمی افواج اگر چہ افغانستان کے علاقوں سے القائدہ و طالبان کو مقدور حد تک بے دخل کرنے میں کامیاب ہوئیں تاہم خیبر پختون خواہ، فاٹا اُن کیلئے کبھی بھی آسان ثابت نہیں ہوا۔ القائدہ کے زیر اثر تمام تر قوتیں بشمول غیر ملکی جنگجو (عرب، ازبک، چیچن، چینی و افریقی) افغانستان کو چھوڑ کر فاٹا، خیبر پختون خواہ اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں آن بسے۔ امریکہ اپنی تمام تر معاشی، عسکری و سائنسی برتری اور پاکستان میں مکمل عسکری و عملی آزادی کے باوجود اِن علاقوں میں موثر کاروائی کر نے میں ناکام رہا ہے۔ افواجِ پاکستان کئی سالوں سے یہ کہتی چلی آرہی ہیں کہ خیبر پختون خواہ اور فاٹا سے دہشت گردی کا خاتمہ عسکری اقدامات سے نا ممکن ہے بلکہ فوج کشی نے نہ صرف پاکستانی طالبان و دیگر دہشت گرد گروہوں کو تقویت فراہم کی ہے بلکہ اُن کیلئے ٹھوس جواز پیدا کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کے اہم ترین مقامات، شخصیات اور عوام کو ہولناکیوں کا نشانہ بنائیں۔ خیبر پختون خواہ اور فاٹا سے اُٹھنے والی دہشت گردی نے پاکستان میں کیا کیا گل کھلائے ، اِ س کی جھلک دیکھے بنا ساری بحث کو سمجھنا غیر مناسب ہے۔

دسمبر 2001 ء میں پاکستانی وزیر داخلہ معین الدین حیدر کے بھائی احتشام الدین حیدر کو کراچی کے سولجر بازار کے قریب قتل کر دیا گیا۔ بائیس فروری 2002 ء کو امریکی صحافی ڈینئل پرل کر اغواکر کے کراچی میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اسی سال مئی میں کراچی کے شیرٹن ہوٹل کے قریب گیارہ فرانسیسی اور تین پاکستانیوں کو بس پر بم دھماکے کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا۔ یہ تمام لوگ پاکستان بحریہ سے متعلق تھے۔ چودہ جون کو کراچی میں امریکی سفارت خانے کے باہر بم دھماکے کے ذریعے بارہ افراد کو ہلاک اور پچاس کے قریب کو زخمی کیا گیا۔ اِس دھماکے میں سفارت خانے کی بیرونی دیوار بھی اُڑ گئی۔ اِسی سال پاکستان بھر میں عیسائی گرجوں کو بد ترین دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعات بہاولپور، مری، ٹیکسلا ، ڈسکہ (سیالکوٹ )اور کراچی جیسے شہروں میں وقوع پذیر ہوئے۔

چار جولائی 2003 ء کو کوئٹہ میں شیعہ عبادت گاہ پر بم دھماکے سے سنتالیس افراد جاں بحق جبکہ ڈیرھ سو کے قریب زخمی ہو گئے۔اسی سال چودہ اور پچیس جولائی کو اسلام آباد میں پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف پر دو ہولناک حملے کئے گئے۔ جس میں وہ تو محفوظ رہے تاہم دو درجن کے قریب افراد جاں بحق ہو گئے۔

لیاقت بازار کوئٹہ میں دو مارچ 2004 ء کو شیعہ جلوس پر حملے میں بیالیس افراد ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہو گئے۔ 16 مارچ ، 2004 کو افواجِ پاکستان اور القائدہ کے جنگجوؤں کے مابین پہلا ٹاکرا جنوبی وزیرستان کے شہر وانا کے گرد و نواح میں ہوا۔ وانا کے جنوب میں دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کلوشہ نامی دیہہ کو پاکستانی افواج نے گھیرے میں لے لیا۔ افواہ تھی کہ وہاں القائدہ کے نائب سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری اور ساتھی پناہ گزین ہیں تاہم بعد ازاں ثابت ہوا کہ یہ آپریشن تحریکِ اسلامیِ ازبکستان (IMU) کے سربراہ طاہر جان (اصل نام طاہر یلدوش) کے خلاف تھا جس میں پاکستانی افواج کو بھاری جانی نقصان اُٹھانا پڑا جبکہ طاہر جان زخمی حالت میں بچ نکلنے میں کامیاب ہوا۔ تاہم اِس آپریشن کے خاتمے سے قبل ہی طاہر جان کی موت کی خبریں گردش میں آگئیں جس نے مقامی آبادی میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی کیونکہ مقامی آبادی میں طاہر جان ایک جرأت مند اور سچے مسلمان کے طور پر مقبول تھا۔ مسلح قبائلیوں نے پاکستانی افواج کو گھیرے میں لے لیا اور تین لشکروں میں جنگ چھڑ گئی ۔ اِس میں پاکستانی افواج کے کم از کم اسی جوان شہید ہوئے(فوجی دعوے کے مطابق چھیالیس)۔ فوج کی درجنوں گاڑیوں اور دیگر ساز و سامان کو راکٹوں سے اڑا دیا گیا۔ طاہر جان بعد ازاں تحریکِ طالبان پاکستان کے موجودہ سربراہ حکیم اللہ محسود کے ساتھ دیکھا گیا اور27 اگست 2009 ء میں ایک ڈرون حملے کا نشانہ بنا۔

کلوشہ کی لڑائی کو پاکستان میں دہشت گردی کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایک طرف جہاں اِس واقعے نے فاٹا اور خیبر پختوخوا کی آبادی سمیت القائدہ و طالبان جیسے گروہوں کو پاکستانی حکومت کا مخالف بنا دیا وہیں پر القائدہ کو ملک کے کونے کونے میں اپنے مراکز قائم کرنے کی راہ دکھائی ۔ کلوشہ کی لڑائی نے ازبک جنگجوؤں میں پاکستانی افواج اور سرکاری تنصیبات کے خلاف حملوں کو جواز فراہم کیا تاہم اِس نظریے سے بیشتر پاکستانی گروہوں نے اتفاق نہ کیا ۔ اِن میں تحریکِ طالبان پاکستان کا ملا نذیر گروہ سر فہرست ہے۔ ملا نذیر نے نہ صرف پاکستانی افواج و سرکار کے خلاف جنگ کی مخالفت کی بلکہ اِس کے نتیجے میں2007 ء کے اوائل میں وزیر ستان میں سر گرم ازبکوں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔ دوسری جانب بیت اللہ محسود کی سرکردگی میں سر گرم پاکستانی طالبان نے طاہر یلدوش کے ازبک جنگجوؤں کی مکمل تائید و اعانت کی۔ چودہ فروری 2009 ء کو امریکی ڈرون حملے میں تیس سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جن میں اکثریت غیر ملکیوں کی تھی۔ ڈرون طیارے نے تین مکانات پر میزائل داغے تھے۔ پاکستانی اور امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت فاٹا و خیبر پختون خوا کے علاقوں میں غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد آٹھ ہزار کے قریب ہے جو کہ دن بدن بڑھ رہی ہے۔

کلوشہ کی جنگ اور بعد ازاں تحریکِ طالبان پاکستان (بیت اللہ محسود)، ازبک، عرب و دیگر شدت پسند گروہوں کے پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ نے پاکستان دشمن غیر ملکی خفیہ اداروں جیسے راء اور موساد کو سنہری موقع فراہم کر دیا اور اِن اداروں نے اپنے کارندوں اور گماشتوں کو جنگجوؤں کے روپ میں طالبان و دیگر گروہوں میں شامل کر نا شروع کر دیا۔ اِن غیر ملکی دہشت گرد کارندوں نے مقامی آبادی میں پاکستان کے خلاف ہتھیار اُٹھانے کی ترغیب و تبلیغ شروع کر دی اور بڑی تعداد میں مقامی افراد کو پاکستان مخالف بنا کر لڑائی پر آمادہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ 2007 ء کے آخر میں فاٹا اور خیبر پختون خوا کے علاقوں میں غیر ملکیوں کی تعداد میں اضافے نے پاکستان اور امریکیوں میں شدید ابتری پھیلا دی۔ بین الاقوامی افواج اور اقوام کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں نوجوان جنگجوؤں کو دنیا بھر سے یہ کہہ کر پاکستان لایا جانے لگا کہ اِس پر غیر مسلم اقوام نے قبضہ کر رکھا ہے اور اِس سرزمین کو آزاد کروانا سب کی ذمہ داری ہے۔ اِ س کھیل کی تمام تر تیاری بھارتیوں اور اسرائیلیوں نے کی تھی تاہم دیگر بین الاقوامی خفیہ ادارے بھی اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالنے میں پیش پیش تھے۔ مثال کے طور پر امریکہ، سعودی عرب اور دیگر کئی عرب ممالک کی دلچسپی بلوچستان اور پاکستان میں تیل و گیس کی صورتِ حال اور مستقبل میں اِس پر زیادہ سے زیادہ انحصار کرنے کے حوالے سے تھی اور منتشر و کمزور پاکستان اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اِن اقوام کی امداد کا مرہونِ رہتا اور ان کو اپنی تیل و گیس کی اجارہ دار و فروخت کے مواقع میں ترقی کی ضمانت میسر رہتی۔ امریکہ تیل و گیس کی عالمی تجارت پر اجارہ داری کا حامل ہے جبکہ عرب ممالک کی ترقی و خوشحالی کا دارومدار تیل کی عالمی توانائی کی ضروریات پر اجارہ داری سے ہے۔ اِن میں سے کوئی ملک نہیں چاہے گا کہ پاکستان مستحکم ہو کر آزادانہ فیصلے کر سکے یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک بد عنوان ترین افراد کو پاکستان کی حکومت کی باگ دوڑ اور دھاندلی سے بھر پور انتخابات کے انعقاد پر حکومتِ پاکستان کو مبارکباد دینے میں پیش پیش رہے ہیں۔

تحریکِ انصاف اگرچہ کسی طور پر بھی اِن ممالک کا مہرہ نہیں تاہم خیبر پختون خوا اور فاٹا میں تحریکِ انصاف کی حکومت کا قیام اِن اقوام کی خواہشات اور منشاء کے عین مطابق ہے کیونکہ تحریکِ انصاف اگرخیبر پختون خوا میں اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب رہتی ہے تو اُس کا کریڈٹ لے کر امریکی وعربی غلاموں کو آئندہ کٹھ پتلی بنا کر پاکستان پر مسلط رکھا جا سکتا ہے کیونکہ تمام تر غیر ملکی اقوام کے مطابق تحریکِ انصاف کی تمام تر مقبولیت عمران خان کی ذات تک محدود ہے جسے کسی بھی وقت راہ سے ہٹایا جا سکتا ہے۔شائد اس کا ایک معمولی سا مظاہرہ لاہور میں عمران کو اسٹیج پر سے گرا کر بھی کیا گیا ہے۔ اور اگر تحریکِ انصاف فاٹا و خیبر پختون خوا میں ناکام ہوتی ہے تو توانائی کے چوہدریوں کی چاندی ہی چاندی ہے۔ تحریکِ انصاف کیلئے ابھی مشکلات کا آغاز ہوا ہے ۔ انتخابات میں جیت اور نیا پاکستان کے نظریے کی راہ میں دیو ہیکل مشکلات کھڑی ہیں اور غلطی کی گنجائش نشتہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s