تحریر: سیّد ہارون حیدر گیلانی


  | یہ مقالہ ڈاؤن لوڈ کیجئے

صفحۂ اوّل 

صفحۂ دوئم


تمہید:

بالعموم پاکستان کے بعض حلقوں میں سیاچن کے محاذ پر جاری جنگ کے حوالے سے یہ تاثر لیا اور دیا جاتا ہے کہ یہ خطہ محض عسکری اہمیت کا حامل ہے اور یہ کہ یہاں جاری جنگ اور افواجِ پاکستان کی اس میں شمولیت نہ صرف ملکی و قومی مفادات کے مخالف ہے بلکہ یہ ملک و قوم کیلئے ہر لحاظ سے سمِ قاتل ہے۔ یہ تاثر یکسر غلط ہے کہ سیاچن اور اس کے آس پاس کے علاقے کی پاکستان کیلئے کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ اس مقالے کا مقصد سیاچن اور اس سے ملحقہ علاقے کی اصل اہمیت اور پاکستان کے معاشی و اقتصادی مستقبل میں اس کے کردار کو واضع کرنا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے تو اس امر کا سمجھنا ہم سب کیلئے ضروری ہے کہ سیاچن کی اصل اہمیت معاشی و اقتصادی ہے اور سیاچن کا معاملہ پاکستان اور بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ اس کا اصل تعلق ریاستہائے متحدہ امریکہ اور چین کے مابین جاری معاشی و اقتصادی سرد جنگ سے ہے۔ پاکستان، بھارت، امریکہ اور چین کے مابین اس تمام معاملے کے آغاز کو سابق صدرِ پاکستان اور سپہ سالارِافواجِ پاکستان، فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان نے نہائت اچھے پیرائے میں بیان کیا ہے۔ مرحوم رقمطراز ہیں

جب چین کی عوامی جمہوریہ ایشیاء میں ایک ابھرتی ہوئی(معاشی) طاقت کی حیثیت سے نمودار ہوئی اور خصوصاً ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی چپقلش واقع ہوئی تو امریکہ کے خیالات اور اس کی ایشیائی پالیسی میں انقلابی اور بنیادی تبدیلی پیدا ہوگئی۔ اب امریکہ کے اربابِ حل و عقد کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ ایشیاء میں بعض ممالک کو چین کے خلاف دفاعی مورچوں کے طور پر کھڑا کیا جائے۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے جاپان اور ہندوستان کو منتخب کیا۔ ہندوستان کوتیار کرنے کا مطلب یہ تھا کہ اسے وافر فوجی سازو سامان سے لیس کیا جائے۔ اس سے قدرتی طور پر ہندوستان کے چھوٹے چھوٹے ہمسایوں کے دل میں خوف و ہراس نے جگہ پانی شروع کی۔ چونکہ ہندوستان پاکستان کو اپنا دشمن نمبر ایک تصور کرتا ہے اس لیے امریکی پالیسی کی اس تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر پاکستان پر ہی پڑا

[جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی]

بقول سابق صدرِ پاکستان و امیر عساکرِ پاکستان پرویز مشرف ،

سیاچن ایک طویل برفانی تودہ ہے جو قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں بھارت ، پاکستان، اور چین کے تکون پر واقع ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس تک پہنچنے کے راستے میں سالتورو سلسلۂ کوہ حائل ہے جو سترہ ہزار سے اکیس ہزار فٹ تک بلند ہے(سب سے پہلے پاکستان، صفحہ۹۱)” ۔

سیاچن اور تنازع

سیاچن کو عمومی طور پردنیا کا بلند ترین محاذِ جنگ قرار دے کر بات آگے بڑھا دی جاتی ہے جبکہ اس کی اہمیت اور بلند ترین محاذ ہونے کی وجہ سے اس کی خوفناکی، ہولناکی اور سفّاکی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

سیاچن اس وقت پاکستان اور بھارت کے مابین اہم ترین سرحدی تنازع کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ 1949 ء کے معاہدۂ کراچی میں جنگ بندی کی حدود کے تعّین سے اس تنازع کا آغاز تصّور کیا جاتا ہے۔ اُس معاہدے میں درج شدہ حدود کے تعین پر دونوں ممالک میں اختلافات نے جنم لینا شروع کیا۔ ان اختلافات نے اس وقت انتہائی سنگین صورتِ حال اختیار کر لی جب بھارتی افواج نے ۱۳ اپریل ۱۹۸۴ء کو اپنی فوجیں سیاچین گلیشئیر سے متصل سالتورو کے پہاڑی سلسلے پر پہنچا دیں۔ پچاس میل لمبے اور گیارہ سے بائیس ہزار فٹ کی بلندے پر واقع سیاچین گلیشئر اس دن جنگی تاریخ کا بلند ترین محاذ قرار پایا۔ پاکستان کے سابق صدر اور سپہ سالار (COAS) جنرل پرویز مشرف اس وقت ڈپٹی دائریکٹر ملٹری آپریشنز  کے عہدے پر فائز تھے اور ان کی تعیناتی سیاچن پر تھی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ”

جب ہم وہاں(سیاچن کے محاذ پر)پہنچے تو دیکھا کہ بھارتی پہلے سے ہی اس علاقے میں موجود ہیں اور رینج کی بیشتر اونچائیوں پر قبضہ کئے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے سپاہی اوپر پہنچے اور انھوں نے دوسری بلندیوں اور علاقوں پر، جو بھارتی مورچوں کے چاروں طرف تھے قبضہ کر لیا۔ نتیجتاً دونوں فوجوں نے ایک دوسرے کے سامنے بلندیوں پر مورچے بنا لئے جہاں سے وہ ایک دوسرے پر گولیاں چلا سکتے تھے” (سب سے پہلے پاکستان، صفحہ ۹۲)۔

پرویز مشرف مزید لکھتے ہیں کہ”

یہاں پر بھارتیوں کا نقصان ہم سے بہت زیادہ ہوتا ہے کیونکہ انھیں ان دروں تک پہنچنے کیلئے سیاچن گلیئیر اور اس کے تمام شگافوں کو پیدل عبور کر نے میں تین سے سات دن لگتے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے کنکروں کی ایک سڑک سالتورو رینج کے بالکل قریب ختم ہوتی ہے۔ ہمارے سپاہی کسی بھی درّے پر جیپ میں سفر کرنے کے بعد ایک دن کے اند اندر پیدل چڑھ سکتے ہیں” (سب سے پہلے پاکستان، صفحہ ۹۲)۔

تمام عالمی مبصرین و ماہرین کی عمومی رائے میں اس خونخوار جنگ کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے جس نے بین الاقوامی قوانین کی سنگین  واضع خلاف ورزی کرتے ہوئے اس علاقے میں اپنی فوجیں اتار کر دونوں ممالک کیلئے بالخصوص اور دیگر اقوامِ عالم کے لئے بالعموم خطرات پیدا کر دئے۔ اس مہلک و خوفناک محاذ پر زیادہ تر جانی نقصانات برفانی تودوں، اونچائی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں، حادثات وغیرہ کے باعث ہوئے ہیں۔ بقول پرویز مشرف ”

بھارتی ‘ شملہ معاہدے’ کے باوجود جو بھارت اور پاکستان کے درمیان 1971 ء کی جنگ کے بعد ہوا تھا اور جس میں لائن آف کنٹرول کی حدود کو طے کیا گیا تھا لائن آف کنٹرول پر جہاں بھی خلا دیکھتے ، اسے پار کر کے ہماری طرف بڑھ آتے۔ شمالی علاقہ جات میں ” قمر سیکٹر” میں ” چور بتلا” کے مقام پر اور سیاچن پر بھی ہم سے مقابلے اس بات کا ثبوت ہیں(سب سے پہلے پاکستان، صفحہ۱۱۶)” ۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاچن کا معاملہ شائد تنازع کی صورت اختیار نہ کرتا اگر امریکی مفادات کے نام پر امریکی عسکری شعبہ اس معاملے کو دونوں ممالک کے درمیان ہوا نہ دیتا۔ ۱۹۷۶ء میں امریکی دفاعی ادارے (The United States Defense Mapping Ageny) نے بنا کسی قانونی و تاریخی حیثیت کے اس علاقے کو اپنے نقشوں اور جداول میں بطور پاکستانی علاقے کے دکھانا شروع کر دیا۔ اسی دور کی غیر سرکاری اشاعتوں میں اس علاقے کو مروجہ امریکی نقشوں کی بنا پر پاکستانی علاقہ مان کر تمام تر نقشہ جات اسی ترتیب سے شائع ہونے لگے یا کروائے جانے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو پانچ ہزارمربع کلو میٹر کا یہ علاقہ واضع طور پر تفویز کر دیا گیا۔

اس سے قبل پاکستان ، جمہوریہ چین کے ساتھ مارچ ۱۹۶۳ء میں ایک سرحدی معاہدے میں چین کو سیاچن کے شمال میں واقع پانچ ہزار ایک سو اسّی کلومیٹر کا علاقہ دے چکا تھا۔ بھارت اس معاہدے کے خلاف تھا اور اس کی تنسیخ کیلئے کوشاں تھا تاہم پاکستان اور چین کے باہمی مفادات کیلئے یہ معاہدے بے حد کا ر آمد تھا کیونکہ پاکستان اور چین مستقبل میں اس علاقے میں تجارتی آمد و رفت کے ذرائع کو بہتر بنا کر اپنی معیشت کو قابلِ قدر طور پر مستحکم کرنا چاہتے تھے۔ جبکہ بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ چین کے اس معاشی طوفان کو روکنے اور اس کی جگہ اپنے اپنے معاشی مفادات کو مستحکم بنانا چاہتا تھا۔

سیاچن اور شمالی علاقہ جات کی معاشی و تجارتی حیثیت

سیاچن کے تنازع کو سمجھنے کیلئے تجارت و معیشت کی تاریخ اور اس علاقے کی اہمیت کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔چوتھی صدی قبلِ مسیح میں یونانی حکمران اسکندر کے ہندوستان کے حملے سے قبل چین سے دیگر دنیا کے رابطے کا سب سے بڑا ذریعہ یہی علاقہ تھا۔ تمام تر مالِ تجارت اس راستے سے پاکستان کے موجودہ صوبہ خیبر پختون خواہ، افغانستان ، تاجکستان کے راستے ازبکستان کے شہر بخارا تک لایا جاتا تھا۔ اس بخارا اس وقت کا سب بڑا تجارتی مرکز اور دنیاوی تہذیبوں اور اقوام کا سنگم تھا۔ بخارا سے مالِ تجارت یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ تک بھیجا جاتا تھا ۔

یونانیوں اور رومیوں کے ادوار کے آثارِ قدیمہ اور نقشوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں انسانی آبادی کا زیادہ تر ارتکاز موجودہ پاکستانی علاقوں تک تھا یا کم از کم ان علاقوں کا رابطہ دیگر دنیا سے تھا۔ اس کا ثبوت گندھارا،ہڑپہ، موہنجوداڑو اور بلوچستان میں واقع مہر گڑھ کو انسانی تاریخ کے اولین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں پر گندم، جو اور کپاس کی کاشت کے ساتھ ساتھ گلہ بانی کی جاتی تھی۔ دریائے سندھ کی تہذیب اور گندھارا کی تہذیب پر مشتمل علاقوں کا افغانستان، ایران، وسطی ایشیاء کے ساتھ تجارتی رابطہ مسلمہ ہے ۔ یونانیوں کے اس خطے میں آمد سے قبل بحری تجارت اور بحری سفر کا کوئی تصور نہیں تھا لہذا زمینی راستوں سے تمام تر تجارت اور معاشی سرگرمیاں سر انجام دی جاتی تھیں۔ مہر گڑھ جیسے دور دراز علاقے کے آثارَ قدیمہ سے ملنے والے نوادرات میں بدخشا ں کے علاقے کے لاجوورد کی موجودگی دریائے سندھ اور ساحلِ مکران کے لوگوں کا گندھارا کے علاقے کے لوگوں کے ساتھ تجارتی رابطے کے ۷۰۰۰ء سال قبل مسیح میں مستحکم ہونے کی دلالت کرتے ہیں۔

بدخشاں، سمر قند اور بخارا کی تجارتی حیثیت کو قابلِ ذکر زَک یونانیوں نے پہنچائی جب اسکندر نے اپنے بحری ستوں کو سندھ کے ساحلوں سے مشرقِ وسطیٰ اور بحیرۂ احمر تک کے راستوں کی دریافت پر مامور کیا اور اس طرح مصر میں قائم شدہ اسکندریہ کی بندر گاہ سے ہندوستان اور چین کا تجارتی رابطہ قائم کر دیا۔ اس نئی جہت نے عربوں کی عالمی تجارت میں شامل کر دیا اور ہندیوں سے یمن، بحرین، عمان اور قطر وغیرہ کے تجارتی میلوں سے مال خرید کر شام، فلسطین اور مصر کی تجارتی منڈیوں کے راستے یورپ تک فروخت کرنے پر عربوں کی عملداری قائم ہوگئی۔ ابتداء میں یہ عملداری موجودہ اردن کے علاقوں میں قائم شدہ نبطی سلطنت کے عربوں کے پاس رہی تاہم رومیوں کے فلسطین اور نبطی سلطنت کے خاتمے کے بعد یہ تجارتی عملداری دیگر عرب قبائل کے ہاتھ میں آگئی۔

عربوں میں اہلِ مکہ کو کعبہ کے متولین کی حیثیت سے تمام عربوں میں متبرک اور محترم مقام حاصل تھا ۔ صحرائے عرب میں گھومنے والے خانہ بدوش قبائل کا ذریعہ معاش لوٹ مار تھا اور اہلِ مکہ کو کعبہ کی متولیت کی بنا پر اس لوٹ مار سے تحفظ حاصل تھا۔ اس استثناء نے انھیں صحرائے عرب کے آر پار آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیوں پر مکمل حاوی کر دیا۔ زمانۂ جاہلیت کے مکہ کے افراد چین اور ہند کے ممالک سے تجارتی روابط کے باعث خاطر خواہ واقف تھے۔ اس وقت بھی چین، ہند، بدخشاں، سمر قند اور بخارا اہم تجارتی مراکز سمجھے جاتے تھے۔
یہ سلسلہ یورپی اقوام کے پندرہویں اور سولہویں صدی میں راس امید (موجودہ مغربی افریقہ) کے راستے ہند اور یہاں سے چین کے ساتھ تجارت تک قائم رہا۔ نوآبادیاتی ادوار میں یورپی اقوام کا عالمی تجارت پر تسلط ایشیائی اقوام کے پستی کے طرف دھکیلتا گیا اور یورپ اقوام پھلتی پھولتی رہیں۔ تاہم ایشیائی اقوام ، بالخصوص ایشیائے بعید میں تجارتی استحکام کی تحریک بتدریج پھلتی پھولتی رہی۔ عوامی جمہوریہ چین، سنگاپور، ملایئشیا اور انڈونیشیاء نے گذشتہ صدی کے دوران باہمی تنازعات و اندرونی خلفشاروں پر قابو پا کر اپنی اقوام کو معاشی و سماجی استحکام کے ساتھ ساتھ تجارتی سطح پر بھی بے حد مستحکم کیا اور دنیا بھر میں اپنا ایک مقام بنایا۔ اس وقت ایشیاء میں تجارتی طور پر سب سے زیادہ بد حالی برصغیر میں ہے جہاں آزادی کے باوجود بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان جیسے ممالک بے پناہ غربت اور مفلسی کا شکار ہیں۔ کہنے کو بھارت کو پروپیگنڈا کے ذریعے اور مصنوعی چکا چوند سے بہت بڑی معیشت دکھایا جاتا ہے تاہم حقیقت پسندانہ فکر جو تصویر دکھاتی ہے وہ نہ صرف اس کے بر عکس ہے بلکہ بے حد بھیانک ہے۔
علیحدگی پسندی، انتہا پسندی اور ریا کاری نے بھارتیوں کیلئے ایشیائی اقوام میں نا پسندیدگی میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ مغربی دباؤ میں آکر جہاں عالمی اداروں اور کاروباری طبقے نے بھارت میں سرمایا کاری میں دلچسپی لی اس کے اصل روپ جلد ہی دنیا کے سامنے آنے لگا۔ گذشتہ نصف صدی کے دوران ستیام کمپیوٹر سروسز سے لے کر حالیہ متحدہ عرب امارات کے ادارے” اتصالات ” کے ساتھ ہونے والے ایک ارب ڈالر مالیت کے دھوکے نے دنیا کی دلچسپی بھارتی معیشت میں سرمایا کاری سے عمومی اجتناب میں بدل دی ہے۔ عالمی بنک کے ۲۰۱۲ء میں شائع ہونے والے اعداد و شمار میں بھارت کی سرمایہ کاری کے تحفظ کا مقام گرا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات خراب تر ہونے کی وجہ سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت میں بھی کمی ہوتی جا رہی ہے۔
اس منفی شہرت کو سنبھالنے کیلئے امریکہ کی آشیر باد اور اثر و رسوخ کی بدولت بھارت نے پاکستان اور افغانستان میں بد عنوانی اور ریشہ دوانیوں کا سہارا لے کے اپنی تجارت کا بڑھانے کی کوششیں شروع کی ہوئی ہیں جن میں حالیہ پسندیدہ ترین قوم کا درجہ حاصل کرنے کیلئے پاکستان حکومت کی وزارتِ خارجہ و وزارتِ تجارت کے اعلیٰ ترین افسران و حکاّم کو خطیر رشوتیں دینے کا اقرار اس عاجز کے سامنے ایک بڑے بھارتی کاروباری ادارے کے حکاّم نے کیا تھا اور ان کے مطابق چند ماہ قبل بھارت کا دورہ کرنے والے مذکورہ وزارتوں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کو ایک کروڑ امریکی ڈالر کی رشوت دی گئی ہے تاکہ بھارت کو پاکستان سے پسندیدہ ترین قوم کا درجہ دلوایا جا سکے۔ بھارت ایک طرف تو پاکستان اور افغانستان کے راستے وسطی ایشیاء کی منڈیوں تک اپنی رسائی چاہتا ہے دوسری طرف سیاچن کے محاز کر گرم رکھ کر وہ چین، پاکستان، ایران اور ترکی کی تجارتی و معاشی منصوبوں کو خاک میں ملا کر امریکی و مغربی مقاصد کے حصول میں کوشاں ہے۔

پاکستان کو چاروں طرف سے گھیر کر مکمل طور سے معاشی و اقتصادی زنجیروں میں جکڑا جا رہا ہے۔ سیاچن اور گلگت بلتستان میں ہونے والے فسادات پاکستان اور چین کے مابین زمینی راستے کو مکمل طور پر بند کرنے کے علاوہ کوئی مقصد نہیں رکھتی۔ پاکستان ، چین اور افغانستان کے مابین 28 سے 29 فروری 2012 ء کو سہ فریقی مذاکرات بیجنگ میں ہوئے ۔ اس اجلاس میں تینوں ملکوں نے باہمی اقتصادی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا اور 2002 ء کی قرار دادِ کابل کی روح کو مزید مستحکم کیا۔ اس اجلاس کے دوران افغان حکومت کے نمائندگا ن نے پاکستان اور افغانستان کے مابین پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں کے خاتمے کیلئے مصلح کا کردار ادا کرنے کی استدعا کی اور تینوں ممالک نے علاقائی استحکام، باہمی احترام، دوستانہ تعلقات، تعاون اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات سے اجتناب پر اتفاق کیا۔ یہ اجلاس مغربی ممالک اور بھارت کیلئے بے حد پریشان کن ثابت ہوا اور چند ہی ہفتوں کے دوران گلگت بلتستان میں پر تشدد فسادات کا ایک سیلاب ابل آیا اور ابھی تک جاری ہے۔ ان فسادات کوہمیشہ کی طرح مذہبی رنگ دیا جا رہا ہے حالانکہ کوئی بھی مذہب اس قسم کے فتنہ و فساد کی قطعاً اجازت و ترویج نہیں کرتا۔

پاک افغان سرحد پر واقع پاک فوج کی سرحدی چوکی پر حملے ہوں یا پھر سیاچن میں برفانی تودے کا شکار ہونے والے جوان، یہ سب امریکی و مغربی سازشوں کا شکار ہو کر شہید ہوئے ہیں۔ بھارت اس وقت عاقبت نا اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقائی امن و استحکام کیلئے آستین کا سانپ بن گیا ہے اور بجائے وہ اپنے ہمسایوں اور قریبی ممال کے ساتھ مل کر علاقائی استحکام، باہمی احترام، دوستانہ تعلقات و تعاون کے زریں اصولوں پر چلے وہ مغربی ممالک کے مداریوں کا بندر بن کر اس خطے کے امن کو تہہ و بالا کرنے کے خطرناک کھیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ عالمی معیشت اور اقتصادی نظام کے یورپ سے ایشیاء کی جانب رخ نے ایشیائی اقوام میں باہمی یگانگت، ہم آہنگی، تعاون اور تعلقات کی گہرائی کے عوامل کو جہاں بے حد تیز کر دیا ہے وہاں بھارت خود کو ایشیائی ممالک کی صف میں مارِ آستین بنا کر تنہائی کا شکار بنا رہا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s